احمد کہاں گیا؟

نام تو اس کا خدا جانے کیا تھا، مگر میں اسے رول نمبر  7کے حوالے سے آج بھی بھول نہیں پایا۔ شاید وہ نوید تھا، یا پھر اختر، یا پھر احمد یا کوئی اور۔ چلئے ھم اسے احمد ھی سمجھ لیتے ھیں۔ 

یہ 1996ء کی بات ھے، جب میں نے میٹرک کرنے کے بعد نیا نیا کالج میں جانا شروع کیا۔ کیمسٹری کی پہلی کلاس تھی۔ احمد میرے بائیں طرف بیٹھا ھوا تھا۔ سخت گیر طبیعت کے مالک رحمت علی صاحب نے طلباء سے کچھ بنیادی سوالات پوچھنا شروع کئے۔

‘‘Define Matter?’’

رحمت صاحب نے احمد کی طرف اشارہ کرتے ھوئے کہا۔

قومی لباس میں ملبوس اور بے اعتمادی سے بیٹھے ھوئے احمد کے چہرے پر شرمندگی اور پریشانی نمایاں تھی۔

میں نے بظاھر اپنا چشمہ درست کرنے کے بہانے اپنا ھاتھ اوپر کو اٹھایا اور اس کی آڑ میں اپنے ھونٹ سر کی نگاھوں سے چھپاتے ھوئے احمد کی مدد کرنا چاھی، اور دبے دبے لہجے میں کہا

‘‘which has mass and occupies space.’’

احمد نے اسے سنا تو ضرور، مگر باوجود کوشش کے اسے دھرا نہ سکا۔

“بول نا یار۔۔۔۔”

مگر احمد چپ کا چپ ھی رھا۔

یہ خاموشی دیکھتے ھوئے رحمت صاحب نے اسے اپنی روایتی خفگی کے ساتھ  ڈانٹا اور سخت اور قدرے تحقیر آمیز لہجے میں پوچھا کہ اس کے میٹرک میں کتنے مارکس آئے ہیں؟

رحمت صاحب کی طرح میں بھی ایسا ھی سمجھ رہا تھا کہ اس کے کافی کم مارکس ھوں گے، تبھی تو اسے ایک انتہائی بنیادی نوعیت کے سوال کا جواب معلوم نہیں۔ میری توقع کے برعکس احمد کلاس کے ٹاپ کے مارکس رکھنے والا نکلا۔ اس کے مجھ سے بھی  50مارکس زیادہ تھے۔

مگر اتنے اچھے مارکس لینے والا لڑکے کو کلاس میں شرمندہ کیوں ھونا پڑا؟

اس سوال کا جواب مجھے تب سمجھ آیا، جب برسوں بعد مجھے خود ایک اکیڈمی میں پڑھانا پڑا۔ مجھے احساس ھوا کہ اردو میڈیم سے میٹرک کرنے والے لڑکے لڑکیاں کیوں دوسروں سے پیچھے رہ جاتے ھیں۔ ان کے لئے مادہ اورمیٹر* میں زمین ، آسمان کا فرق ھے۔ وہ اسراع سے تو واقف ھوتے ھیں، مگر ان کے لئے ایکسیلریشن** ایک بھیانک لفظ ھے۔ وہ کمیت کو تو جانتے ہیں، مگر ماس*** ان کے لئے نامانوس اصطلاح ھے۔ وہ طول ماسکہ کو بخوبی سمجھتے ھیں، مگر ان کے لئے فوکل لینتھ**** کے ھجے کرنا دشوار۔

مجھے اندازہ ھوگیا کہ اگر رحمت صاحب انگریزی میں سوال کرنے کی بجائے اردو میں یہ پوچھتے کہ ’’مادہ کی تعریف کیا ہے؟‘‘ تو احمد کو جواب دینے میں کوئی دشواری نہ ھوتی۔ میٹرک میں اس قدر بہترین مارکس لینے کے باوجود اسے وہ ماحول نہ مل سکا، جو اس کا حق تھا۔ جانے اس نے کتنی محنت کی ھوگی، مگر کچھ عرصے بعد مجھے رول نمبر 7 کلاس میں نظر نہیں آیا۔ خدا جانے احمد کہاں گیا؟ 

مجھے ٹھیک سے اندازہ نہیں کہ گزشتہ کچھ برسوں میں اردو میڈیم اور انگریزی میڈیم کے طلباء کے بیچ اس خلیج کو دور کرنے کے لئے کتنے جتن کئے گئے ھیں۔شاید انگریزی اصطلاحات کو اردو رسم الخط میں لکھ کر نصاب کا حصہ بنا دیا گیا ہے ۔ ھاں، یہ ایک مناسب درمیانہ راستہ دکھائی دیتا ھے، مگر ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ھے۔ ہمیں ابھی وہ سب کچھ کرنا ھے، کہ جس کے ھوتے ھوئے کوئی طالب علم پڑھائی کو اپنے لئے بوجھ نہ سمجھنے لگے، اور کسی اور احمد کو دل برداشتہ ھو کر اپنی پڑھائی ترک نہ کرنی پڑے۔ بصورت دیگر احمد کی طرح جانے کتنے ہی ذہین دماغ مایوسی کا شکار ھو کر ہمیشہ کے لئے تاریکیوں میں کھو جاتے رھیں گے۔ ھمیں ھر حال میں ایسا ھونے سے روکنا ھے۔

(تحریر: سبز خزاں)

*matter  **acceleration  ***mass   ****focal length

Do you speak English
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s