کیوںکہ میں، تم ھوں۔

(اختتام کا آغاز)

میں نے پہلے پہل ‘اسے’ ایک آئینے میں پایا۔
اور میں اپنا عکس دیکھتے ھی چونک اٹھا۔
میرا دائیاں پہلو، بائیاں ۔ اور بائیاں، دائیاں دکھائی دے رھا تھا۔
میں نے آنکھوں پر اپنی توجہ مرکوز کی۔
اور پھر جو رونما ہوا
اس نے مجھے حیرت میں ڈبو دیا۔
مجھے یہ چہرہ کسی اور میں ڈھلتا محسوس ھوا
اور اپنا آپ اجنبی سا لگنے لگا۔
میں گھبرا گیا۔
اور خوفزدگی میں واپس اپنے کمرے کا رخ کیا۔
سوچا کہ ایک بار پھر خود کو ھجر کا عادی بنا لوں۔

اسی شب، کسی نے میرے کانوں میں سرگوشی کی
تم سب سے بھاگ سکتے ہو؛ ’’
خدا سے، دنیا سے، انسانوں سے، اور ان سے منسوب رشتوں سے
مگر تم مجھ سے دور نہیں جا سکتے
‘‘ کیوں کہ میں ،تم ہوں۔

بے بسی میں، میں نے اپنے کمرے کو الوداع کہا
مگر میں جہاں بھی گیا، اسی آواز نے میرا تعاقب کیا۔
بالآخر میں نے اپنی شکست تسلیم کر لی
اور اپنے دروازے پر سفید علم لٹکا دیا۔
(اب میں کسی آئینے کی طرف نہیں دیکھتا۔)

(آغاز کا اختتام)

تحریر از: ۱۷ مارچ ۲۰۰۹ء

Broken_mirror_by_Moonbeam13

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s