وحشت اور جنون

میں پہلے اپنے ملک کے حالات پر بہت آزردہ اور شکستہ حال رہتا تھا۔ میں سوچتا اور کڑھتا رہتا کہ خدایا، یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ انسانیت کہاں گئی اور لوگ، امن اور سلامتی سے کیوں نہیں رہ سکتے۔ مگر اب میں خود کو بڑی حد تک لا پرواہ سا پاتا ہوں۔ میں مجھے اپنی پچھلی سوچیں اور غم کتابی سے لگنے لگے ہیں۔ شاید میرے ذھن نے یہ بات اچھی طرح جان لی ہے کہ جس معاشرے سے صبر، تحمل، برداشت، رواداری اور درگزر کی صفات چھن جائیں، وہاں وحشت اور جنون کے علاوہ رہ ہی کیا جاتا ہے؟

 Weshat
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s